بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے فرانسیسی اخبار لی مونڈے (Le Monde) میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں خلیج فارس کے سیکورٹی ڈھانچے میں بنیادی نظرثانی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، ایران کو 'قابو' کرنے کی نام نہاد پالیسی ترک کرنے اور علاقائی امن کے لئے ایک جامع اور علاقائی شراکتی ترتیب قائم کرنے کی طرف بڑھنے کا مطالبہ کیا۔
انھوں نے اس مضمون کے آغاز میں حالیہ جنگ کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "سلطنت عمان کے عوام اور خلیج فارس کے علاقے میں ان کے پڑوسی اب بھی اس جنگ کا خمیازہ بھگت رہے ہیں جس کے وقوع پذیر ہونے کا کوئی جواز نہیں تھا۔"
البوسعیدی نے مزید لکھا: "ہمیں بہت امید ہے کہ اب ہم واقعی جنگ کے بعد کے دور میں داخل ہو چکے ہوں، نہ کہ صرف قلیل مدتی جنگ بندی میں!۔"
فرانسیسی روزنامے لی مونڈے (Le Monde) میں شائع ہونے والے عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کے مضمون کا خلاصہ:
وزیر خارجہ عمان، بدر البوسعیدی، نے اپنے مضمون میں خلیج فارس کے سیکورٹی ڈھانچے میں بنیادی نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔
انھوں نے ایران کے خلاف "مہم" کی پالیسی کو ترک کرنے اور ایک جامع، علاقائی-شراکتی سیکورٹی ترتیب کی طرف بڑھنے پر زور دیا ہے۔
البوسعیدی نے حالیہ جنگ کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عمان اور پڑوسی ممالک ابھی تک اس جنگ کا خمیازہ بھگت رہے ہیں، جس کا کوئی جواز نہیں تھا۔
انھوں نے امید ظاہر کی کہ حنگ حقیقتاً ختم ہو چکی ہو، نہ کہ ہمیں محض ایک اور، عارضی جنگ بندی، کا سامنا ہو۔
عمانی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ اگر جنگ واقعی ختم نہیں ہوئی اور تنازع کسی لاپروائی اور نادانی کی وجہ سے دوبارہ شروع ہوتا ہے تو کم از کم اس سے سبق سیکھنا چاہئے۔
آبنائے ہرمز کے بارے میں جاری مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے البوسعیدی نے لکھا کہ اس آبی گذرگاہ میں بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت کو یقینی بنانے کے لئے طویل مدتی انتظامات تک پہنچنے کے لئے پیچیدہ گفت و شنید ہو رہی ہے۔ عمان اس سلسلے میں ایران اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر عملی، پائیدار اور بین الاقوامی قانون پر مبنی طریقہ کار وضع کرنے میں تعاون کرے گا۔
البوسعیدی نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ گذشتہ 45 سالوں سے جھوٹ کی بنیاد پر ایران کو خطے کے لئے خطرہ قرار دے کر خلیج فارس کو فوجی چھاؤںی میں تبدیل کیا گیا، لیکن اب یہ ثابت ہو گیا ہے کہ فوجی اڈوں اور ہتھیاروں کے یہ انبار کوئی کارکردگی نہیں دکھا سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ